analatics //ads poetry web 2: Ahmed Faraz //adds
Showing posts with label Ahmed Faraz. Show all posts
Showing posts with label Ahmed Faraz. Show all posts

Saturday, 21 September 2019

Fraz Ahmed raz poetry || two lines poetry

اس نے مجھے چھوڑدیاتوکیاہوافرازؔ 
میں نے بھی توچھوڑاتھا سارا زمانہ اس کے لیے۔



دل منافق تھا، شب ہجرمیں سویاکیسے
اور جب تجھ سے ملا، ٹوٹ کے رویاکیسے۔ 


اس شخص سے فقط اتناساتعلق ہے فرازؔ 
وہ پریشان ہوتو ہمیں نیندنہیں آتی ۔



دل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جان فرازؔ 
مل گئے تم بھی توکیااور نہ جانے مانگے۔



یونہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیاہے
کس قدر جلدبدل جاتے ہیں انسان جاناں۔



میں جس کی راہ پہ ہوں ہرجگہ پہ ہے موجود
میں جس سفرپہ ہوں خود باعث سفرہے مجھے۔



محبت کے بعد محبت ممکن ہے فرازؔ 
پرٹوٹ کے چاہناصرف ایک بارہوتاہے۔




نظم دُلہن تھی تیری ، غزل تیری محبوبہ 
الوداع احمدفرازؔ ! جاتجھ کوخداکو سونپا ۔


اَب کیوں روشنی سے ڈرتے ہوفرازؔ 
تم توکہتے تھے مجھے چاند چاہیئے۔



یہی دل تھا کہ ترستاتھامراسم کے لیے 
اب یہی ترک تعلق کے بہانے مانگے۔



کچھ محبت کانشہ پہلے ہم کو تھافرازؔ 
دل جو ٹوٹاتو نشے سے محبت ہوگئی۔


اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کانام رکھ دیا۔


ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس پھر تو
کہاں گیاہے میرے شہرکے مسافر تو۔



دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی 
لوگوں نے میرے گھر سے رستے بنالیے۔



افسوس کوئی پوچھتا نہیں دل کاحال فرازؔ 
ہر کوئی کہہ رہا ہے تیرے رنگ کوکیاہوگیا۔



اس کی وہ جانے اسے کے پاس وفاتھا کہ نہ تھا
تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے۔



کسی بے وفاکی خاطر یہ جنوں فرازؔ کب تک
جو تمہیں بھلا چکاہے اسے تم بھی بھول جاؤ۔



خالی ہاتھوں کو کبھی غور سے دیکھاہے فرازؔ 
کِس طرح لوگ لکیروں سے نکل جاتے ہیں ۔




میں فنا ہوگیا وہ بدلا پھر بھی نہیں فرازؔ 
میری چاہت سے بھی سچی تھی نفرت اس کی۔




تیرے قریب آکے بڑی الجھنوں میں ہوں 
میں دشمنوں میں ہوں کہ تیرے دوستوں میں ہوں ۔

Urdu poetry Fraz Ahmed Fraz

ضبط غم اس قدر آساں نہیں فرازؔ 
آگ ہوتے ہیں وہ آنسو جو پیے جاتے ہیں


اس طرح غور سے مت دیکھ میرے ہاتھ کو فرازؔ 
ان لکیروں میں حسرتوں کے سواکچھ بھی نہیں ۔


کبھی ملے فرصت تو ضروربتانافرازؔ 
وہ کون سی محبت تھی جوہم تمہیں نہ دے سکے۔


دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے
جو کسی اور کاہونے دے ،نہ اپنارکھے۔



وہ روز دیکھتاہے ڈوبتے ہوئے سورج کوفرازؔ 
کاش میں بھی کسی شام کا منظرہوتا۔



کون کس کے ساتھ مخلص ہے فرازؔ 
وقت ہر شخص کی اوقات بتادیتاہے۔



اب کے بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں۔



ذکر اس کا سہی بزم میں بیٹھے ہوفرازؔ 
دردکیساہی اٹھے ہاتھ نہ دل پر رکھنا۔



محبت کرسکتے ہو تو خُداسے کروفرازؔ 
مٹی کے کھلونوں سے کبھی وفانہیں ملتی۔


ذکر اس کا سہی بزم میں بیٹھے ہوفرازؔ 
دردکیساہی اٹھے ہاتھ نہ دل پر رکھنا۔


اس کی آنکھوں کو کبھی غور سے دیکھاہے فرازؔ 
رونے والوں کی طرح جاگنے والوں جیسی۔


محبت ملی تو نیند بھی اپنی نہ رہی فرازؔ 
گم نام زندگی تھی تو کتناسکون تھا۔



آؤ رولیں فرازؔ دنیاکو
خوش دل نامراد ہو کچھ تو۔



ہم نے آغاز محبت میں ہی لُٹ گئے ہیں فرازؔ 
لوگ کہتے ہیں کہ انجام بُراہوتاہے۔


ہجر کی رات بہت لمبی ہے فرازؔ 
آؤ اُس کی یاد میں تھک کہ سوجائیں۔



ہم کو اچھانہیں لگتاکوئی ہم نام تیرا
کوئی تجھ ساہوتوپھر نام بھی تجھ سارکھے۔



تمام عمر اسی کے خیال میں گزری فرازؔ 
میراخیال جسے عمر بھر نہیںآیا۔



ہم چراغوں کوتوتاریکی سے لڑناہے فرازؔ 
گل ہوئے پر صبح کے آثاربن جائیں گے ہم۔



ہزار بار مرنا چاہانگاہوں میں ڈوب کرہم نے فرازؔ 
وہ نگائیں جھکالیتی ہے ہمیں مرنے نہیں دیتی۔


میرے مرنے پر سب خوش ہوں گے فرازؔ 
بس اک تنہائی روئے گی کہ میرا ہمسفر چل بسا۔


کسی سے جُداہونا اگر اتناآسان ہوتا فرازؔ 
تو جسم سے رُوح کو لینے کبھی فرشتے نہیں آتے۔

Fraz Ahmed Fraz poetry

اب تیرے ذکرپہ ہم بات بدل دیتے ہیں
کتنی رغبت تھی تیرے نام سے پہلے پہلے۔



یوں پھر رہاہے کانچ کا پیکرلیے ہوئے
غافل کو یہ گمان ہے کہ پتھر نہ آئے گا۔



دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے
جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہترہے۔




سنا ہے تمہاری ایک نگاہ سے قتل ہوتے ہیں لوگ فرازؔ 
ایک نظر ہم کو بھی دیکھ لوکے زندگی اچھی نہیں لگتی ۔



میں کہ صحرائے محبت کا مسافر تھا فرازؔ 
ایک جھونکاتھاکہ خوشبوکے سفرپر نکلا۔



میں شب کا بھی مجرم ہوں سحر کا بھی ہوں مجرم
یارو مجھے اس شہر کے آداب سکھادو۔



کھلے تو اب بھی گلشن میں پھول ہیں لیکن 
نہ میرے زخم کی صورت ، نہ تیرے لب کی طرح۔



شاید تو کبھی پیاسا میری طرف لوٹ آئے فراز
آنکھوں میں لیے پھرتا ہوں دریاتیری خاطر۔


سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سواس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں ۔


بندگی ہم نے چھوڑدی ہے فرازؔ
کیا کریں لوگ جب خداہوجائیں۔


میں رات ٹوٹ کے رویا تو چین سے سویا
کہ دل کا زہرمری چشم ترسے نکلاتھا۔


کہ اپنے حرف کی تو قیر جانتاتھافرازؔ
اسی لئے کفِ قاتل پہ سراسی کارہا۔

سُنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو بربادکرکے دیکھتے ہیں۔


مجھ سے ہر بار نظریں چُرالیتا ہے
میں نے کاغذ پر بھی بنا کے دیکھی ہیں آنکھیں اُس کی ۔


اک پل میں جو برباد کر دیتے ہیں دل کی بستی کوفرازؔ
وہ لوگ دیکھنے میں اکژمعصوم ہوتے ہیں ۔


میں نے یہ سوچ کرتسبیح ہے توڑدی فرازؔ
کیا گن گن کرمانگوں اس سے ، جو بے حساب دیتاہے۔




Thursday, 29 August 2019

Teri Baatain Hi Sunane Aye


Teri Baatain Hi Sunane Aye
Dost Bhi Dil Hi Dukhane Aye

Phol Khilte Hain Tu Ham Sochte Hain
Tere Aane Ke Zamane Aye

Aesi Kuch Chup Si Lagi Hai Jese
Ham Tuje Haal Sunane Aye

Ishq Tanha Hai Sar-e Manzil Gham
Kon Ye Bojh Uthane Aye

Ajnabi Dost Hamain Dekh Keh Ham
Kuch Tuje Yaad Dilane Aye

Dil Darhakta Hai Safar Ke Hangam
Kash Phir Koi Bulane Aye

Ab Tu Rone Se Bhi Dil Dukhta Hai
Shayad Ab Hosh Thikane Aye

Kya Kahin Phir Koi Basti Ujri
Log Kyun Jashan Manane Aye

So Raho Moat Ke Pehlo Me Faraz
Neend Kis Waqt Na Jane Aye